کولیکشن


تلخ مٹھاس

11 دسمبر | شائع کنندہ 4 تبصرے

جھوٹ، لالچ، دھوکا، حرص، خود غرضی- یہ دنیا کہ وہ لعنتیں ہیں جو ہمارے معاشرے میں رچ بس گئی ہیں بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ ہم نے انہیں اپنی زندگی کی ضرورت اور لازمی جزو بنا لیا ہے، تو اس میں کوئی مغالطہ نہ ہوگا- آپ زندگی کے کسی شعبے کی مثال لے لیں حکومتی کارندوں سے لے کر میڈیا تک اور کسی سوشل ادارے کے روح رواں سے لے کر ایک عام آدمی تک، کوئی اپنے ذاتی مفاد کیلئےقانون میں تبدیلی کا خواہاں ہے تو کوئی پیسے کی چمک میں جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ کہنے سے  نہیں ہچکچاتا- جب یہ سب کچھ اتنا تلخ ہے توانسان یہ کڑوا گھونٹ کیسے پیتا ہے؟ اس کا جواب آج یہ واقعہ پڑھ کر ملا- آپ کو بھی بتائے دیتے ہیں-

کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک بادشاہ نے اپنے وزیز کو آدھی سلطنت دینے کو کہا ، لیکن ساتھ میں کچھ شرائط بھی عائد کیں- وزیر نے لالچ میں آکر شرائط جاننے کی درخواست کی بادشاہ نے شرائط 3 سوالوں کی صورت میں بتائیں۔

سوال نمبر 1: دنیا کی سب سے بڑی سچائی کیا ہے؟
سوال نمبر 2 : دنیا کا سب سے بڑا دھوکا کیا ہے؟
سوال نمبر 3 : دنیا کی سب سے میٹھی چیز کیا ہے؟

(مزید…)



ایک حقیقت

22 نومبر | شائع کنندہ 6 تبصرے

ایک طوطا اور مینا کا گزر ایک ویرانے سے ہوا، وہ دم لینے کے لئے ایک ٹنڈ منڈ درخت پر بیٹھ گئے- طوطے نے مینا سے کہا “اس علاقے کی ویرانی دیکھ کر لگتا ہے کہ الوؤں نے یہاں بسیرا کیا ہو گا”

ساتھ والی شاخ پر ایک الو بیٹھا تھا اس نے یہ سن کر اڈاری ماری اور ان کے برابر میں آ کر بیٹھ گیا- علیک سلیک کے بعد الو نے طوطا اور مینا کو مخاطب کیا اور کہا “آپ میرے علاقے میں آئے ہیں، میں ممنون ہوں گا اگر آپ آج رات کا کھانا میرے غریب کھانے پر تناول فرمائیں”-

اس جوڑے نے الو کی دعوت قبول کر لی- رات کا کھانا کھانے اور پھر آرام کرنے کے بعد جب وہ صبح واپس نکلنے لگے تو الو نے مینا کا ہاتھ پکڑ لیا اور طوطے کو مخاطب کر کے کہا ” اسے کہاں لے کر جا رہے ہو، یہ میری بیوی ہے”

(مزید…)



مقبول حج

5 ستمبر | شائع کنندہ 1 تبصرہ

ادھر حج کا فریضہ ادا ہوا ادھر معلمین حجاج کو باری باری ایئرپورٹ لانے کے عمل  (بلکہ حجاج کو ایئرپورٹ پر  ڈھونے کے عمل) میں لگ جاتے ہیں۔ اور حجاج بیچارے ادھر، اور  ان کے لواحقین ادھر،  ان سے ملنے کو بے قرار،  انتظار کی اذیت سے دوچار ہوتے ہیں۔

کچھ ایسی ہی صورتحال  ایک عرب  ملک سے تعلق رکھنے والے حاجی سعید کے ساتھ پیش آرہی تھی جو ایئرپورٹ پر  بیٹھے اپنے جہاز کا انتظار کر رہےتھے۔  ان کے ساتھ والی کرسی کو خالی پاکر ایک  اور حاجی صاحب آن  بیٹھے۔ ایک دوسرے کو سلام کرنے بعد، ایک دوسرے کے نام ،   ایک دوسرے کی شہریت اور صحت و تندرستی بلکہ ایک دوسرے کا  حال احوال بھی پوچھ بیٹھے۔ یہ نو وارد کچھ زیادہ ہی گرم جوش دکھائی دیتا تھا جس کا دل ان چند باتوں سے نہیں بھرا تھا اور وہ مزید کچھ کہنے سننے کو بے تاب دکھائی دے رہا تھا۔ تاکہ گفتگو کا سلسلہ مزید چل نکلے۔

اس نے خود ہی اپنے بارے میں بتانا شروع کیا کہ:

برادر سعید، میں پیشے کے لحاظ سے ایک ٹھیکیدار ہوں۔ اس سال مجھے ایک بہت بڑا ٹھیکہ مل گیا، یہ ٹھیکہ تو گویا میری زندگی کے  حاصل جیسا تھا۔ اور میں نے نیت کر لی کہ اللہ کی اس  نعمت کے شکرانے کے طور پر میں اس سال دسویں بار فریضہ حج ادا کرونگا۔  بس اپنی منت کو پورا کرنے کیلئے میں نے  اپنا حج داخلہ کرایا۔ ادھر آ کر  بھی خوب صدقات  دیئے اور  خیراتیں  کیں تاکہ اللہ میرے حج کو قبول کرلے۔ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ میں دسویں بار حاجی بن گیا ہوں۔

سعید صاحب نے سر کو ہلا کر گفتگو میں اپنی دلچسپی کا اظہار کیا  اور مسنون طریقے سے

حج کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا

حجا مبرورا ،  و سعیا مشکورا،  و ذنبا مغفورا ان شاء اللہ

(اللہ کرے آپ کا حج مقبول ہو، آپ کی سعی مشکور ہو اور آپ کے گناہ معاف کر دیئے جائیں)

اس شخص نے مسکرا کر سعید صاحب  کی نیک تمناؤں کا شکریہ ادا کیا اور کہا:

اللہ تبارک و تعالیٰ سب کے حج قبول کرے، تو سعید صاحب، کیا آپ کے حج کا بھی کوئی خاص قصہ ہے ؟

سعید نے کچھ ہچکچاہٹ کے ساتھ کہا

ہاں جی، میرے حج کے پیچھے بھی ایک طویل قصہ ہے مگر میں  یہ قصہ سنا کر آپ کے سر میں درد نہیں کرنا چاہتا۔

یہ سن کر وہ شخص ہنس پڑا اور کہا؛

(مزید…)


Tags:


ندامت کے لمحوں پر مغفرت کا سیلاب

11 اگست | شائع کنندہ 3 تبصرے

حضرت حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ کا زمانہ ہے۔ آپ کی ایک شاگردہ جو باقاعدہ آپ کا درس سننے آتی تھی۔ نہایت عبادت گزار تھی۔ اس بے چاری کا جوانی میں خاوند چل بسا۔ اس نے دل میں سوچا! ایک بیٹا ہے اگر میں دوسرا نکاح کرلوں گی تو مجھے دوسرا خاوند تو مل جائے گا‘ لیکن میرے بچے کی زندگی برباد ہوجائے گی۔ اب وہ بچہ جوان ہونے کے قریب ہے۔ ”یہی میرا سہارا سہی“ لہٰذا اس عظیم ماں نے یہی سوچ کر اپنے جذبات کی قربانی دی۔

وہ ماں گھر میں بچے کا پورا خیال رکھتی لیکن جب وہ بچہ گھر سے باہر نکل جاتا تو ماں سے نگرانی نہ ہوپاتی۔

(مزید…)



اسلامی سپہ سالار( حضرت خالد بن ولید) کا تاریخی فیصلہ

1 اگست | شائع کنندہ 6 تبصرے

رات کے گھٹا ٹوپ اندھیرے نے ہر طرف اپنے سائے پھیلائے ہوئے تھے۔ ایسے میں ایک شخص قلعے کی دیوار سے رسا لٹکائے نیچے اتر رہا تھا۔ وہ جس قدر اپنی منزل کے قریب آرہا تھا، اسی قدر طرح طرح کے اندیشے اس کے دل کی دھڑکنوں کو تیز کر رہے تھے۔

“کہیں ایسا نہ ہو کہ قلعے والے مجھے دیکھ لیں اور تیر مار کر راستے ہی میں میرا قصہ تمام کر دیں۔۔۔۔ کہیں نیچے اترتے ہی مسلمانوں کی تلواریں میرے خون سے رنگین نہ ہو جائیں۔”

یہ تھے وہ خدشات جو اس کے دل و دماغ میں شدت سے گونج رہے تھے۔ پھرجوں ہی اس نے زمین پر قدم رکھا مجاہدین نے اسے گرفتار کر لیا۔ اس کایہ خیال بالکل غلط ثابت ہوا کہ مسلمان مجاہد رات کے اندھیرے میں قلعے سے بے خبر ہوں گے۔
اترنے والے نے اپنے خوف پر قابو پاتے ہوئے کہا کہ اسے لشکر کے سپہ سالار کے سامنے پیش کر دیا جائے۔ وہ سپہ سالار کون تھے؟ وہ اللہ کی تلوار حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ تھے۔

(مزید…)



سلالہ واقعہ اور نیٹو سپلائی

6 جولائی | شائع کنندہ 2 تبصرے

دوستو! آج خلاف معمول کوئی واقعہ یا قصہ نہیں بیان کر رہا بلکہ اپنے جذبات کو کچھ اشعار میں تحریر کر رہا ہوں- کیا کریں کہ معامله ہی کچھ ایسا ہے کہ کچھ کہہ بھی نہیں سکتے، چپ رہ بھی نہیں سکتے- اور الفاظ ہیں کہ زبان کا ساتھ نہیں دیتے-

(مزید…)



اک ماں کی اپنی بیٹی کیلئیے 10 نصیحتیں

9 جون | شائع کنندہ 2 تبصرے

عرب کی ایک مشہور عالم ،ادیبہ کی دس وصیتیں، جو حکیم العصر حضرت مولانا محمد یوسف رحمتہ اللہ علیہ لدھیا نوی صاحب کی کتاب تحفہ دلہن میں لکھی ہیں۔

١- ”میری پیاری بیٹی ،میری آنکھو ں کی ٹھنڈک ،شوہر کے گھر جا کر قناعت والی زندگی گزارنے کا اہتمام کرنا۔ جو دال روٹی ملے اس پر راضی رہنا ، جو روکھی سوکھی شوہر کی خوشی کے ساتھ مل جا ئے وہ اس مرغ پلا ﺅ سے بہتر ہے جو تمہارے اصرار کرنے پر اس نے نا راضگی سے دیا ہو ۔

٢- میری پیاری بیٹی ، اس با ت کا خیال رکھنا کہ اپنے شوہر کی با ت کو ہمیشہ توجہ سے سننا اور اسکو اہمیت دینا اور ہر حال میں ان کی بات پر عمل کرنے کی کو شش کرنا اسطرح تم ان کے دل میں جگہ بنا لو گی کیونکہ اصل آدمی نہیں آدمی کا کام پیارا ہو تا ہے ۔

(مزید…)



آقا اور غلام

29 مئی | شائع کنندہ 12 تبصرے

خواجہ حسن بصری رحمة اللہ تعالٰی علیہ نے بصرہ میں ایک غلام خریدا، وہ غلام بھی ولی اللہ، صاحبِ نسبت اور تہجد گذار تھا-

حضرت حسن بصری نے اس سے پوچھا کہ اے غلام! تیرا نام کیا ہے؟

اس نے کہا کہ حضور! غلاموں کا کوئی نام نہیں ہوتا، مالک جس نام سے چاہے پکارے،

آپ نے فرمایا اے غلام! تجھ کو کیسا لباس پسند ہے؟

اس نے کہا کہ حضور! غلاموں کا کوئی لباس نہیں ہوتا جو مالک پہنا دے وہی اس کا لباس ہوتا ہے،

پھر انہوں نے پوچھا کہ اے غلام! تو کیا کھانا پسند کرتا ہے؟

(مزید…)



قیمت

12 مئی | شائع کنندہ 3 تبصرے

پرانے زمانے میں بھی بادشاہوں کو یہ خوش فہمی ہوتی تھی کہ وہ عقل کل ہیں- ایسے ہی ایک بادشاہ محض اس وجہ سے کامیابی سے حکومت کر رہا تھا کہ اسے ایک وزیر با تدبیر میسر تھا- جو اپنی معاملہ فہمی اور دوراندیشی سے بادشاہ کی حماقتوں کو چھپا لیتا تھا، مگر کب تک؟؟… ایک دن خود وزیر با تدبیر بھی بادشاہ سلامت کے نرغے میں آ ہی گیا- بادشاہ کے دماغ میں نہ جانے کیا بات آئی کہ انہوں نے وزیر باتدبیر کو بلا کر اس کے سامنے یہ تین سوال رکھے:

١- زمین کے وسطی مقام کی نشاندھی کی جائے-

٢- ہمیں بتایا جائے کہ ہم زمین کا چکر کتنی دیر میں لگا سکتے ہیں؟

٣- ایک عظیم قومی سرمایہ ہونے کے ناطے ہماری قیمت کا تخمینہ لگایا جائے-

(مزید…)



پرچے اور تماشے

18 اپریل | شائع کنندہ 11 تبصرے

آج کل میں اپنے آفس بوائے کو چوتھی دفعہ میٹرک کروا رہا ہوں اور یقین کامل ہے کہ یہ سلسلہ مزید پانچ چھ سال تک جاری رہے گا، ہر دفعہ وہ پوری تیاری سے پیپر دیتا ہے اور بفضل خدا، امتیازی نمبروں سے فیل ہوتا ہے- اس دفعہ بھی پیپرز میں وہ جو کچھ لکھ آیا ہے وہ یقینا تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا- اسلامیات کے پرچے میں سوال آیا کہ “مسلمان کی تعریف کریں؟” موصوف نے جواب لکھا کہ “مسلمان بہت اچھا ہوتا ہے، اس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے، وہ ہوتا ہی تعریف کے قابل ہے، اس کی ہر کوئی تعریف کرتا ہے، جو اس کی تعریف نہیں کرتا وہ تباہ و برباد ہو جاتا ہے، میں بھی اٹھتے بیٹھتے ہر وقت اس کی تعریف کرتا رہتا ہوں، مسلمان کی تعریف کرنے سے بڑا ثواب ملتا ہے، ہم سب کو ہر وقت مسلمان کی تعریف کرتے رہنا چاہیے”-

اسی طرح مطالعہ پاکستان المعروف “معاشرتی علوم” کے پرچے میں سوال آیا کہ پاکستان کی سرحدیں کس کس ملک کے ساتھ لگتی ہیں، موصوف نے پورے اعتماد کے ساتھ لکھا کہ “پاکستان کے شمال میں امریکہ، مشرق میں افریقہ، مغرب میں دبئی اور جنوب میں انگلستان لگتا ہے”-

سائنس کے پرچے میں سوال تھا کہ “الیکٹران اور پروٹان میں کیا فرق ہے؟” عالی مرتبت نے پورے یقین کے ساتھ جواب لکھا کہ “کچھ زیادہ فرق نہیں، سائنسدانوں کو دونوں کی ضرورت پڑتی رہتی ہے”-

(مزید…)

خبرنامہ حاصل کریں

اپنا ای میل (برقی پتہ) درج کریں

گوگل پلس

محفوظات

جون 2013
پ م ب ج ج ہ ا
« دسمبر    
 12
3456789
10111213141516
17181920212223
24252627282930

مہمانان گرامی

Free counters!